پیغمبر کی اصل بات
پیغمبر کی اصل بات اور اس بات سے انسان کا اخذ کردہ مفہوم ہے۔ پیغمبر کے الفاظ اپنی جگہ مشاہدہ شدہ یا منقول قول ہیں، جبکہ ان سے کوئی مخصوص معنی، اصول یا نظام اخذ کرنا انسانی تشریح ہے؛ اس تشریح کو خود پیغمبر کی بات قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خیر یہ ہے کہ انسان پیغمبر کی بات کو اپنے عمل کے موقع پر سامنے رکھے اور وجدانی طور پر اگر کوئی عمل اس کے خلاف محسوس ہو تو رک جائے، جبکہ پیغمبر کے الفاظ کی اپنی تشریحات بنا کر انہیں دوسروں پر پیغمبرانہ قول کے طور پر نافذ کرنا شر کی طرف جاتا ہے۔ اگر بات سمجھ نہ آئے تو دوسروں کی تشریحات کے بجائے خدا سے براہِ راست فہم کی دعا کی جائے۔ چونکہ انسانوں کی شخصیت، حالات اور مواقع مختلف ہیں، اس لیے اخلاقی عمل کی انسانی تشریح کو طبیعیاتی قوانین کی طرح یکساں اور قابلِ تجربہ پیمانے سے نہیں پرکھا جا سکتا۔