جنتی فطرت انسان کی توجہ
اردو کہانی
بیٹی: ابو! کچھ لوگ اپنی سماجی حیثیت میں مطمئن کیوں نظر آتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ہمیشہ ناہمواریوں، فرقوں اور تنازعات پر بات کرتے رہتے ہیں؟
والد: سماجیاتی نقطۂ نظر سے یہ دو مختلف رجحانات ہیں۔ ایک کو جنتی فطرت کہا جا سکتا ہے۔ اس میں لوگ اپنی سماجی حیثیت، کام اور روزمرہ ذمہ داریوں کو زندگی کا فطری اور بامعنی حصہ سمجھتے ہیں۔ دوسرا رجحان جہنمی فطرت ہے جس میں توجہ سماجی فرقوں، ناہمواریوں، تنازعات اور کشیدگیوں کی طرف مرکوز رہتی ہے۔
بیٹی: کیا جنتی فطرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان محنت کرنا چھوڑ دے؟
والد: ہرگز نہیں۔ انسان عموماً اسی کام کیلئے محنت کرتا ہے جس کی خواہش اس کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ فرض کرو دو دوست بازار میں جا رہے ہیں۔ ایک کپڑے کی دکان دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں کپڑے کا کاروبار کھولنے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ دوسرا کھلونوں کی دکان دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں کھلونوں کا کاروبار کرنے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ خواہشات وہ زبردستی پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود بخود ان کے ذہن میں ابھرتی ہیں اور ان کی توجہ، دلچسپی اور محنت کو متحرک کرتی ہیں۔
بیٹی: پھر یہ مختلف خواہشات کہاں سے آتی ہیں؟
والد: تمہارے تصور کے مطابق خدا کا غیبی ہاتھ مختلف ذہنوں میں مختلف کاموں کی خواہش پیدا کرتا ہے تاکہ معاشرہ اور معیشت چل سکے۔ کسی کو کھیتی کی طرف رغبت ہوتی ہے، کسی کو تجارت کی طرف، کسی کو تعلیم کی طرف، کسی کو صنعت کی طرف اور کسی کو سیاست کی طرف۔ انہی مختلف رغبتوں کے ذریعے سماجی زندگی جاری رہتی ہے۔
بیٹی: اگر خواہش انسان کے اندر آتی ہے تو کامیابی بھی خود بخود آ جاتی ہے؟
والد: نہیں۔ خواہش اور کوشش انسان کے اندر پیدا ہو سکتی ہے، لیکن کامیابی یا ناکامی بہت سے حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ دو ٹیمیں پورے جذبے سے کھیل سکتی ہیں لیکن جیت صرف ایک ٹیم کو ملتی ہے۔ بہت سے حالات انسان کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔
بیٹی: کیا ہر شخص اپنی خواہش کو اچھا سمجھتا ہے؟
والد: عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔ مخالف فوجوں کے دو سپاہی اپنی اپنی جنگ کو درست سمجھتے ہیں۔ دو مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکن اپنی اپنی جماعت کی پالیسی کو بہتر سمجھتے ہیں۔ لیکن ایک کسان جسے سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں، وہ کھیتی باڑی کو اپنے لیے بہترین کام سمجھتا ہے، اور ایک تاجر تجارت میں اطمینان محسوس کرتا ہے۔
بیٹی: تو اصل فرق محنت اور سستی کا نہیں؟
والد: بالکل نہیں۔ اصل فرق توجہ کے مرکز کا ہے۔ جنتی فطرت انسان کی توجہ ان سرگرمیوں اور کرداروں کی طرف رکھتی ہے جن میں وہ معنی اور اطمینان محسوس کرتا ہے، جبکہ جہنمی فطرت کی توجہ سماجی تقسیموں، ناہمواریوں، تنازعات اور کشمکش کی طرف زیادہ مرکوز رہتی ہے۔ سماجیاتی لحاظ سے یہ دو مختلف اندازِ توجہ ہیں، نہ کہ اچھے اور برے انسانوں کی دو قسمیں
بیٹی: ابو! کچھ لوگ اپنی سماجی حیثیت میں مطمئن کیوں نظر آتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ہمیشہ ناہمواریوں، فرقوں اور تنازعات پر بات کرتے رہتے ہیں؟
والد: سماجیاتی نقطۂ نظر سے یہ دو مختلف رجحانات ہیں۔ ایک کو جنتی فطرت کہا جا سکتا ہے۔ اس میں لوگ اپنی سماجی حیثیت، کام اور روزمرہ ذمہ داریوں کو زندگی کا فطری اور بامعنی حصہ سمجھتے ہیں۔ دوسرا رجحان جہنمی فطرت ہے جس میں توجہ سماجی فرقوں، ناہمواریوں، تنازعات اور کشیدگیوں کی طرف مرکوز رہتی ہے۔
بیٹی: کیا جنتی فطرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان محنت کرنا چھوڑ دے؟
والد: ہرگز نہیں۔ انسان عموماً اسی کام کیلئے محنت کرتا ہے جس کی خواہش اس کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ فرض کرو دو دوست بازار میں جا رہے ہیں۔ ایک کپڑے کی دکان دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں کپڑے کا کاروبار کھولنے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ دوسرا کھلونوں کی دکان دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں کھلونوں کا کاروبار کرنے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ خواہشات وہ زبردستی پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود بخود ان کے ذہن میں ابھرتی ہیں اور ان کی توجہ، دلچسپی اور محنت کو متحرک کرتی ہیں۔
بیٹی: پھر یہ مختلف خواہشات کہاں سے آتی ہیں؟
والد: تمہارے تصور کے مطابق خدا کا غیبی ہاتھ مختلف ذہنوں میں مختلف کاموں کی خواہش پیدا کرتا ہے تاکہ معاشرہ اور معیشت چل سکے۔ کسی کو کھیتی کی طرف رغبت ہوتی ہے، کسی کو تجارت کی طرف، کسی کو تعلیم کی طرف، کسی کو صنعت کی طرف اور کسی کو سیاست کی طرف۔ انہی مختلف رغبتوں کے ذریعے سماجی زندگی جاری رہتی ہے۔
بیٹی: اگر خواہش انسان کے اندر آتی ہے تو کامیابی بھی خود بخود آ جاتی ہے؟
والد: نہیں۔ خواہش اور کوشش انسان کے اندر پیدا ہو سکتی ہے، لیکن کامیابی یا ناکامی بہت سے حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ دو ٹیمیں پورے جذبے سے کھیل سکتی ہیں لیکن جیت صرف ایک ٹیم کو ملتی ہے۔ بہت سے حالات انسان کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔
بیٹی: کیا ہر شخص اپنی خواہش کو اچھا سمجھتا ہے؟
والد: عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔ مخالف فوجوں کے دو سپاہی اپنی اپنی جنگ کو درست سمجھتے ہیں۔ دو مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکن اپنی اپنی جماعت کی پالیسی کو بہتر سمجھتے ہیں۔ لیکن ایک کسان جسے سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں، وہ کھیتی باڑی کو اپنے لیے بہترین کام سمجھتا ہے، اور ایک تاجر تجارت میں اطمینان محسوس کرتا ہے۔
بیٹی: تو اصل فرق محنت اور سستی کا نہیں؟
والد: بالکل نہیں۔ اصل فرق توجہ کے مرکز کا ہے۔ جنتی فطرت انسان کی توجہ ان سرگرمیوں اور کرداروں کی طرف رکھتی ہے جن میں وہ معنی اور اطمینان محسوس کرتا ہے، جبکہ جہنمی فطرت کی توجہ سماجی تقسیموں، ناہمواریوں، تنازعات اور کشمکش کی طرف زیادہ مرکوز رہتی ہے۔ سماجیاتی لحاظ سے یہ دو مختلف اندازِ توجہ ہیں، نہ کہ اچھے اور برے انسانوں کی دو قسمیں