شدت پسندی کی ترغیب دینے والوں کی اخلاقی منافقت
شدت پسندی کی ترغیب دینے والوں کی اخلاقی منافقت "نظام کے آدمی" کی مانند ہوتے ہیں جو انسانی جانوں کی پرواہ کیے بغیر اپنے نظریات کو زبردستی نافذ کرنا چاہتا ہے۔ یہ محرکین میدانِ جنگ سے دور بیٹھ کر انسانی خون خرابے کو محض اعداد و شمار اور دور دراز کے کسی زلزلے کی طرح دیکھتے ہیں، جس پر وہ پہلے تو فکری بحثیں کرتے ہیں لیکن بعد میں اپنی پرسکون اور عیاشانہ زندگی میں مگن ہو جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک عام انسانوں کی قربانیاں صرف ان کے فکری تسلط کا ذریعہ ہوتی ہیں، اور وہ کائنات کے محفوظ کونے میں بیٹھ کر دوسروں کی تباہی پر تبصرہ کرنے کو ہی اپنا سب سے بڑا معرکہ سمجھتے ہیں۔