شدت پسندی کی ترغیب دینے والوں کا جینیاتی اور نفسیاتی ڈھانچہ
شدت پسندی کی ترغیب دینے والوں کا جینیاتی اور نفسیاتی ڈھانچہ بنیادی طور پر بزدلی اور منافقت کا مغلوبہ ہوتا ہے، جن کی جبلت میں خود خطرات کا سامنا کرنے کے بجائے دوسروں کو لڑا کر محفوظ فاصلے سے تماشہ دیکھنے کی پیاس ہوتی ہے۔ یہ لوگ اکھاڑے کے باہر بیٹھے اس مبصر کی مانند ہوتے ہیں جو خود پہلوانی کی سکت نہیں رکھتا لیکن کشتی پر تبصرہ کر کے ذہنی تسکین حاصل کرتا ہے۔ جب کبھی ان کو برائی کے خلاف عملی طور پر میدانِ جنگ میں اترنے یا جسمانی قربانی دینے کا چیلنج کیا جائے، تو یہ فوری طور پر قلم کی جنگ اور نظریاتی مجاہد ہونے کا فکری لبادہ اوڑھ کر اپنے خوف کو چھپا لیتے ہیں۔ ان کا اصل مقصد اپنے الفاظ کی جادوگری سے سادہ لوح انسانوں کو مہروں کی طرح استعمال کر کے معاشرے میں اپنا فکری تسلط قائم رکھنا ہوتا ہے، تاکہ ان کے اکسائے ہوئے لوگ تو اپنی جانیں گنوا بیٹھیں مگر ان کی اپنی ذات پر ایک خراش تک نہ آئے۔