تمام صحیفیوں کا مرکزی نگتہ یہ ہے کہ کون سی قسم کی تربیت کون دے گا یا حاصل کرے گا، یہ قسمت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ پیغمبروں نے یہ شعور پیدا کیا کہ انسانی غلامی اور انسانی حکمرانی کو خدا اپنے غیبی ہاتھ سے مختلف لوگوں کی ذہنی طلب میں ارتقائی تبدیلی کے ذریعے ختم کرتا ہے۔ جنہیں ہم ایران کے بادشاہ، روم کے بادشاہ یا عرب کے بادشاہ کہتے تھے، وہ چھوٹے قبیلوں کے بادشاہ تھے۔ اگر ایران کا کوئی چھوٹا قبیلہ روم یا عرب کے کسی چھوٹے قبیلے سے لڑتا تو انہیں روم، ایران یا عرب کے بادشاہ کے طور پر شاندار بنا کر پیش کیا جاتا، کیونکہ بادشاہ کے مقرر کردہ مؤرخین انہیں اتنا عظیم ظاہر کرتے کہ گویا ان کے حکم کے بغیر پرندہ بھی پر نہ ہلا سکے جو بادشاہ کو خدا بنانے کی کوشش تھ۔ انسانی حکومت پر یقین شرک ہے۔ حتیٰ کہ جدید ریاستوں میں بھی معیشت ایک سمندر کی مانند ہے جسے کنترول کرنے کیلئے خدا کا نظر نہ آنے والے ہاتھ مختلف ذہنوں میں مختلف کاموں کی طلب پیدا کر تاہے، جبکہ حکومت ایک تالاب ہے۔ قرآن کہتا ہے: اور تم تین قسم کے ہو جاؤ گے: پھر دائیں ہاتھ والے (یعنی آزاد مارکیٹ تجارت کرنے والے)، کیا ہی خوش نصیب ہیں دائیں ہاتھ والے! اور بائیں ہاتھ والے(یعنی حکومتی کنترول نافذ کرنے والے)، کیا ہی بدبخت ہیں بائیں ہاتھ والے! اور جو سبقت لے جانے والے ہیں (حکومتی کنٹرول کے خلاف آواز اٹھانے والے)، وہی تو مقرب ہیں۔ یہی لوگ نعمت والی جنتوں میں ہوں گے۔ (سورۃ الواقعہ 56:7-12)
تمام صحیفیوں کا مرکزی نگتہ یہ ہے کہ کون سی قسم کی تربیت کون دے گا یا حاصل کرے گا، یہ قسمت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ پیغمبروں نے یہ شعور پیدا کیا کہ انسانی غلامی اور انسانی حکمرانی کو خدا اپنے غیبی ہاتھ سے مختلف لوگوں کی ذہنی طلب میں ارتقائی تبدیلی کے ذریعے ختم کرتا ہے۔ جنہیں ہم ایران کے بادشاہ، روم کے بادشاہ یا عرب کے بادشاہ کہتے تھے، وہ چھوٹے قبیلوں کے بادشاہ تھے۔ اگر ایران کا کوئی چھوٹا قبیلہ روم یا عرب کے کسی چھوٹے قبیلے سے لڑتا تو انہیں روم، ایران یا عرب کے بادشاہ کے طور پر شاندار بنا کر پیش کیا جاتا، کیونکہ بادشاہ کے مقرر کردہ مؤرخین انہیں اتنا عظیم ظاہر کرتے کہ گویا ان کے حکم کے بغیر پرندہ بھی پر نہ ہلا سکے جو بادشاہ کو خدا بنانے کی کوشش تھ۔ انسانی حکومت پر یقین شرک ہے۔ حتیٰ کہ جدید ریاستوں میں بھی معیشت ایک سمندر کی مانند ہے جسے کنترول کرنے کیلئے خدا کا نظر نہ آنے والے ہاتھ مختلف ذہنوں میں مختلف کاموں کی طلب پیدا کر تاہے، جبکہ حکومت ایک تالاب ہے۔ قرآن کہتا ہے: اور تم تین قسم کے ہو جاؤ گے: پھر دائیں ہاتھ والے (یعنی آزاد مارکیٹ تجارت کرنے والے)، کیا ہی خوش نصیب ہیں دائیں ہاتھ والے! اور بائیں ہاتھ والے(یعنی حکومتی کنترول نافذ کرنے والے)، کیا ہی بدبخت ہیں بائیں ہاتھ والے! اور جو سبقت لے جانے والے ہیں (حکومتی کنٹرول کے خلاف آواز اٹھانے والے)، وہی تو مقرب ہیں۔ یہی لوگ نعمت والی جنتوں میں ہوں گے۔ (سورۃ الواقعہ 56:7-12)